Kis Bojh Se Jism Tootta Hai -کس بوجھ سے جسم ٹوٹتا ہے

Kis Bojh Se Jism Tootta Ha –

کس بوجھ سے جسم ٹوٹتا ہے

کس بوجھ سے جسم ٹوٹتا ہے
اتنا تو کڑا سفر نہیں تھا

وہ چار قدم کا فاصلہ کیا

پھر راہ سے بے خبر نہیں تھا

لیکن یہ تھکن یہ لڑکھڑاہٹ

یہ حال تو عمر بھر نہیں تھا

آغاز سفر میں جب چلے تھے

کب ہم نے کوئی دیا جلایا

کب عہد وفا کی بات کی تھی

کب ہم نے کوئی فریب کھایا

وہ شام وہ چاندنی وہ خوشبو

منزل کا کسے خیال آیا

تو محو سخن تھی مجھ سے لیکن

میں سوچ کے جال بن رہا تھا

میرے لیے زندگی تڑپ تھی

تیرے لیے غم بھی قہقہہ تھا

اب تجھ سے بچھڑ کے سوچتا ہوں

کچھ تو نے کہا تھا! کیا کہا تھا

احمد فراز Ahmad Fraaz (Best poetry collection of Ahmad Fraaz)

(Visited 24 times, 1 visits today)

Share This Post

Post Comment