Kis Bojh Se Jism Tootta Hai -کس بوجھ سے جسم ٹوٹتا ہے

Kis Bojh Se Jism Tootta Ha –

Itna tu Kara Saffar Nahi Thaa

Wo Chaar Kadum Ka Fasla Kya

Phir Raha saa Baa Khabar Nahi Thaa

Lakin Ye Thkan Ye Larkhrahat

Ye Haal Tu Umar Bhar Nahi Tha

کس بوجھ سے جسم ٹوٹتا ہے

کس بوجھ سے جسم ٹوٹتا ہے
اتنا تو کڑا سفر نہیں تھا

وہ چار قدم کا فاصلہ کیا

پھر راہ سے بے خبر نہیں تھا

لیکن یہ تھکن یہ لڑکھڑاہٹ

یہ حال تو عمر بھر نہیں تھا

آغاز سفر میں جب چلے تھے

کب ہم نے کوئی دیا جلایا

کب عہد وفا کی بات کی تھی

کب ہم نے کوئی فریب کھایا

وہ شام وہ چاندنی وہ خوشبو

منزل کا کسے خیال آیا

تو محو سخن تھی مجھ سے لیکن

میں سوچ کے جال بن رہا تھا

میرے لیے زندگی تڑپ تھی

تیرے لیے غم بھی قہقہہ تھا

اب تجھ سے بچھڑ کے سوچتا ہوں

کچھ تو نے کہا تھا! کیا کہا تھا

احمد فراز Ahmad Fraaz (Best poetry collection of Ahmad Fraaz)

(Visited 35 times, 1 visits today)

Share This Post

Post Comment